ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لیجسلیچر کمیٹیوں کے اجلاس پابندی سے کرنے اسپیکر رمیش کمار کی پہل

لیجسلیچر کمیٹیوں کے اجلاس پابندی سے کرنے اسپیکر رمیش کمار کی پہل

Mon, 22 Oct 2018 21:45:38    S.O. News Service

بنگلورو،22؍اکتوبر(ایس اونیوز) ریاستی لیجسلیٹر سیکوریٹ کے انتظامیہ میں سدھار کے لئے سخت ضوابط نافذ کرنے میں لگے اسمبلی اسپیکر رمیش کمار نے ریاستی لیجسلیچر کی مجالس قائمہ کے اراکین پر یہ پابندی عائد کی ہے کہ وہ ہر میٹنگ میں لازمی طور پر شرکت کریں۔اور یہ بھی کہاکہ میٹنگوں کا اہتمام مقررہ اوقات کے درمیان بروقت کیاجائے۔

اراکین اسمبلی کی ان میٹنگوں میں غیر حاضری پر روک لگانے کے لئے انہوں نے کچھ سخت ضوابط اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسپیکر نے ہدایت جاری کی ہے کہ لیجسلیچر کی مختلف اسٹانڈنگ کمیٹیوں کی میٹنگوں میں تمام اراکین اسمبلی کی حاضری کے ساتھ متعلقہ محکموں کے اڈیشنل چیف سکریٹریوں اور دیگر اعلیٰ عہدیداروں کی حاضری بھی لازمی ہوگی۔ کسی بھی افسر کو میٹنگ سے غیر حاضر رہنے کی رعایت قطعاً نہیں دی جائے گی جب تک کہ غیر حاضری کی وجہ جائز نہ ہو۔

لیجسلیچر کی مختلف اسٹانڈنگ کمیٹیوں کے علاوہ ایوان کمیٹیوں کی میٹنگوں میں اراکین کے کورم کی کمی کا حوالہ دیتے ہوئے اسپیکر نے کہا ہے کہ یہ دیکھنے میں آیاہے کہ ان میٹنگوں کو بیشتر اراکین اسمبلی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔ آئندہ اس طرح کی غیر سنجیدگی کو برداشت نہیں کیاجائے گا۔ کورم کی کمی کے سبب اکثر میٹنگوں کو ملتوی کردیا جاتاہے۔ اراکین اسمبلی کی ان کمیٹیوں کی میٹنگوں میں سرگرم شرکت یقینی بنانے کے لئے اسپیکر نے یہ سخت قوانین لاگو کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاستی اسمبلی کی اسپیشل افسر آر وشالاکشی کی طرف سے جاری سرکیولر کے مطابق اسٹانڈنگ کمیٹیوں اور ایوان کمیٹیوں کی میٹنگوں میں اراکین اسمبلی کا حاضر رہنا لازمی ہوگا۔ 19 ستمبر2013 کو اس سلسلے میں جو سرکیولر جاری کیا گیا تھا اسے واپس لیتے ہوئے کمیٹیوں کی میٹنگوں میں اراکین کی حاضری کو لازمی قرار دیا گیا ہے اور یہ بھی قرار دیا گیا ہے کہ کورم کی کمی کے سبب میٹنگ کو ملتوی کرنے کی بجائے ایک گھنٹے تک انتظار کیا جائے اور موجوداراکین کے ساتھ ہی میٹنگ کی کارروائیوں کوآگے بڑھایا جائے۔

میٹنگوں میں موجود چیرمینوں اور اراکین کی حاضری کے دستخط لینے کے بعد اس کی نقل لیجسلیٹر سکریٹری کو پہنچانے کا لزوم ان ضوابط کا حصہ بنایا گیا ہے۔ نئے ضوابط کے مطابق کمیٹیوں کی میٹنگ ہفتے میں چار دن ہوگی۔ ہر ہفتے میں کسی نہ کسی کمیٹی کی ایک میٹنگ لازمی قرار دی گئی ہے۔ نئے سرکیولر کے مطابق ہر منگل کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی ، بزنس اڈوائزری کمیٹی کا اہتمام ہوگا، چہارشنبے کو بہبودئ خواتین واطفال کمیٹی اور تخمینہ جات کمیٹی ، پسماندہ طبقات واقلیتی فلاح کمیٹی کی میٹنگ ہوگی۔جمعرات کواپیلس کمیٹی ، مراعات کمیٹی ، بلدی اداروں اور پنچایت راج کمیٹی ، کامیڈیشن کمیٹی کی میٹنگ ہوگی۔ جمعہ کو یقین دہانی کمیٹی ، عوامی صنعت کمیٹی ، درج فہرست طبقات کمیٹی کا اجلاس ہوگا۔ ان ایام میں اگر سرکاری چھٹی رہی تو اگلے دن کمیٹی میٹنگ کے اہتمام کی پابندی عائد کی گئی ہے۔


Share: